(لاہور-اُردونیٹ پوڈکاسٹ 08 ذوالقعدہ 1439ھ) پاکستان کے عام انتخابات 2018ء کی انتخابی مہم میں مُسلم لیگ ن، پاکستان تحریکِ انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور دینی جماعتوں کی متحدہ مجلس عمل سمیت تمام نمایاں سیاسی جماعتیں اپنی ممکنہ خارجہ، اقتصادی اور دفاعی پالیسی پر بات کرنے سے گریزاں نظر آتی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور ٹی وی سمیت ذرائع ابلاغ و سماجی ذرائع ابلاغ کی مہم ایک دوسرے پر تنقید اور کردار کشی پر مرکوز نظر آتی ہے جبکہ ملک کی خارجہ پالیسی، اقتصادی پالیسی اور دفاعی پالیسی پر نہ تو ن لیگ کے صدر شہباز شریف، نہ ہی پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اور نہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹّو بات کررہے ہیں۔

اس کے برعکس حالیہ انتخابی مہم کے دوران دیکھا گیا ہے کہ ملک کی تینوں بڑی جماعتوں کے سربراہان اور اُن کے دیگر اُمیدوار اپنے خطابات کے دوران دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیان بازی پر غیرمعمولی توجہ دے رہے ہیں جس سے نفرت آمیز رویے کی عکّاسی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں عوامی یکجہتی اور رواداری کے بجائے ایک دوسرے کی مخالفت، کردار کشی گروپوں میں تقسیم کا رجحان غالب آگیا ہے۔ ملک کا سنجیده اور خاموش طبقہ اس صورتحال سے سخت پریشان اور مایوس نظر آتا ہے۔

لاہور سے اُردونیٹ کے ذرائع کیمطابق خاص بات یہ ہے کہ شہباز شریف، عمران خان اور بلاول بھٹّو نے بھی اپنی اپنی جماعتوں کی خارجہ، دفاعی اور مالیاتی پالیسیوں کی اب تک وضاحت نہیں کی اور نہ ہی اپنی انتخابی مہم میں ان تینوں کلیدی موضوعات پر بات کررہے ہیں۔ مُسلم لیگ ن کو لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں، سندھ اور خیبرپختونخواہ میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ عام رائے دہندگان کا خیال ہے کہ شہباز شریف اور مُسلم لیگی اُمیدوار پاکستان، پاکستان کی معاشی حالت، روزگار کی صورتحال اور دیگر عوامی مسائل کے بجائے احتساب عدالت سے سزا پانے والے مُسلم لیگ ن کے سابق سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا دفاع کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
دریں اثناء، اسلام آباد سے اُردونیٹ کے نمائندے کیمطابق گزشتہ عام انتخابات کے مقابلے میں پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان کی حمایت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور سابقہ حکومتوں کی بدعنوانیوں کیخلاف اُن کے موقف کو تقویت ملی ہے۔ لیکن عمران خان بھی اپنی ممکنہ خارجہ، دفاعی اور معاشی حکمتِ عملی واضح طور پر بیان نہیں کرسکے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اُن کی خارجہ پالیسی کی سمت کیا ہوگی اور وہ کس انداز کی اقتصادی اور دفاعی پالیسی اپنائیں گے؟















