(بیونس آئرس۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 22 رمضان 1439ھ) ارجٹنائن نے عالمی فٹبال کپ سے قبل اسرائیل کیساتھ مقبوضہ القدس میں ایک طے شُدہ نمائشی میچ منسوخ کرکے نتن یاہُو کی حکومت سمیت پورے اسرائیل کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ یہودی مقبوضہ القدس کو یروشلم کہتے ہیں۔
ارجنٹائن کی ٹیم کو مقبوضہ القدس میں ہفتے کے روز ایک دوستانہ میچ کھیلنے کیلئے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی لیونل میسی سمیت اسرائیل پہنچنا تھا لیکن بُدھ کے روز ارجنٹائن کی فٹبال ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ وہ یہ دورہ منسوخ کررہی ہے۔
یہ اعلان اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی حکومت کیلئے اتنا بڑا جھٹکا ثابت ہوا کہ اُنہوں نے براہِ راست ارجنٹائن کے صدر کو ٹیلیفون کرکے میچ منسوخ کرنے کا فیصلہ تبدیل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا لیکن ارجنٹائن کے صدر نے جواب دیا کہ وہ اس فیصلے میں دخل اندازی نہیں کرسکتے۔

اسرائیل کھیلوں اور ممتاز گلوکاروں وفنکاروں کو ملک میں مدعو کرکے دنیا بھر میں بدنام اپنی شبیہہ کو سنوارنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ وہ خاص طور پر کھیلوں اور موسیقی کے پروگرام منعقد کرکے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اپنے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کھیلوں کو بھی سیاست مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ارجنٹائن کیجانب سے نمائشی میچ منسوخ کرتے ہی اسرائیلی وزیراعظم، صدر، وزیرکھیل اور وزیر دفاع تک کا بیان سامنے آیا جنہوں نے میچ کا سارا الزام فلسطینیوں پر ڈالتے ہوئے حسبِ معمول دھمکیاں دیں کہ فلسطینیوں نے ’’سرخ لکیر‘‘ پار کی ہے۔ بعض فلسطینیوں کیمطابق اسرائیلی حکومت کے انتہاء پسند وزراء اور دیگر عہدیدار اس اصطلاح کو قتل کی دھمکی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ارجنٹائن اور اسپین کے شہر بارسلونا میں فٹبال کے شائقین اور لیونل میسی کے پرستاروں نے پرزور احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ ٹیم کا دورہٴ اسرائیل منسوخ کرے کیونکہ اسرائیل امتیازی سلوک روا رکھنے والی نسل پرست ریاست ہے۔















